60

کراچی میں فائرنگ، مفتی تقی عثمانی محفوظ، 2 افراد شہید، 2 زخمی

دہشتگرد ایک بار پھر کراچی کا امن تباہ کرنے کی سازشوں میں لگ گئے، نیپا چورنگی پر دارالعلوم کراچی کی 2 گاڑیوں پر موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے فائرنگ کردی، ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے، ان کے ہمراہ اہلیہ اور دو پوتے بھی تھے، واقعے میں 2 سیکیورٹی گارڈ شہید ہوگئے جبکہ بیت المکرم مسجد کے خطیب مولانا عامر شہاب اور مفتی تقی عثمانی کا ڈرائیور زخمی ہوا۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ کہتے ہیں دشمنوں کو کراچی کا امن کھٹک رہا ہے۔

پولیس کے مطابق دارالعلوم کراچی کے سربراہ مفتی تقی عثمانی معمول کے مطابق بیت المکرم مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کیلئے جارہے تھے، گاڑی میں ان کی اہلیہ، دو پوتے، پولیس کانسٹیبل گارڈ اور ڈرائیور بھی موجود تھا، جبکہ ان کے آگے دوسری گاڑی بیت المکرم مسجد کے خطیب مولانا عامر شہاب کی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق نیپا چورنگی کے قریب گلشن پُل اترنے کے بعد مفتی عامر شہاب کی آگے جانیوالی گاڑی کی وجہ سے راستہ بلاک ہوگیا اور موٹر سائیکل سوار 2 حملہ آوروں نے گاڑی پر فائرنگ کردی جبکہ پیچھے بھی 2 موٹر سائیکل سوار نظر آرہے ہیں۔

مزید جانیے : مفتی تقی عثمانی پر حملہ، وزیراعظم کا اظہار مذمت، خیر و عافیت پر اطمینان
فائرنگ کے واقعے میں مولانا عامر شہاب شدید زخمی ہوئے جبکہ ان کا گارڈ صنوبر خان شہید ہوگیا اور گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا گئی، حملہ آور دوبارہ گھوم کر واپس آئے اور پیچھے آنیوالی مفتی تقی عثمانی کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں پولیس کانسٹیبل گارڈ فاروق شہید جبکہ ڈرائیور سرفراز زخمی ہوا لیکن اس نے گاڑی نہ روکی اور سیدھا اسپتال کی جانب لے گیا

فائرنگ کے واقعے میں معجزانہ طور پر مفتی تقی عثمانی، ان کی اہلیہ اور دونوں پوتے محفوظ رہے۔

کراچی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ واقعہ فرقہ وارانہ نہیں، دہشت گرد شہر کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

فوٹیج میں دیکھا گیا کہ حملے کے بعد لوگ جائے وقوعہ کی جانب دوڑ رہے ہیں، جائے وقوعہ سے پندرہ خول ملے، پولیس حملہ آوروں تک پہنچنے کیلئے مزید شواہد اکٹھے کررہی ہے۔

ویڈیو : مفتی تقی عثمانی پر حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی
پولیس نے واقعے کے فوی بعد تصدیق کی تھی کہ فائرنگ کا نشانہ بننے والی گاڑیاں دارالعلوم کراچی کی ملکیت تھیں۔

آئی جی سندھ کلیم امام نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے کے بعد ۔پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے فائرنگ کے مقامات کو گھیرے میں لیکر تفتیش کا آغاز کردیا۔

مفتی تقی عثمانی کے بیٹے عمران تقی نےزندگی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مفتی تقی عثمانی محفوظ ہیں جبکہ ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مفتی تقی عثمانی نے خود کو ملنے والی دھمکیوں سے آگاہ کیا تھا مگر انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ دھمکیاں کہاں سے ملیں۔

یہ بھی پڑھیں : مفتی تقی عثمانی پر حملے سے پہلے ریکی کی گئی،انچارج سی ٹی ڈی
انہوں نے فائرنگ کے واقعے کو پاک بھارت کشیدگی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد کے نتیجے میں دنیا کے سامنے کراچی کا مثبت چہرہ ابھر کر سامنے آیا تھا مگر کچھ عناصر کو کراچی کا امن برداشت نہیں ہوتا اور یہ واقعہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

تفصیلات جانیں : مفتی تقی عثمانی پر حملہ کیسے ہوا،ایس پی پولیس طاہر نورانی نے بتادیا
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ نے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔اس سے قبل،اطلاعات یہ تھیں کہ فائرنگ کے دو علیحدہ واقعات ہوئے ہیں تاہم ڈی آئی جی ایس عامر فاروقی نے تردید کی کہ فائرنگ کے2واقعات نہیں ہوئے بلکہ صرف ایک واقعہ ہی ہوا تھا۔عامرفاروقی نے بتایا کہ دونوں گاڑیاں ایک ساتھ آرہی تھیں، مفتی تقی جس گاڑی میں تھے،وہ لے کر اسپتال آگئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں