13

سولہ سال سے سزائے موت کا منتظر قیدی خضر حیات چل بسا

دوران قید وفات پاگئے۔

خضرحیات کو ساتھی پولیس اہلکار کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی، ان کی سزا پر 4 مرتبہ عملدرآمد ملتوی کیا گیا، 2 ماہ قبل سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان کی سزا طبی بنیادوں پر ایک مرتبہ پھر روک دی تھی۔

خضر حیات کو قانونی امداد فراہم کرنیوالے جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے ترجمان محمد شعیب کے مطابق خضر حیات کو گزشتہ ہفتے لاہور کے جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ جمعرات کی شب انتقال کرگئے۔

خضر حیات کے مقدمے کی وجہ سے پاکستان میں ذہنی مریضوں کو سزائے موت نہ دینے کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا، متعدد پاکستانی سماجی اور انسانی حقوق کی قومی اور بین الاقوامی تنظیموں نے خضر حیات کی سزائے موت رکوانے کیلئے تحریک چلا رکھی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں